صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۳ - بیعت اور بڑے گناہوں سے بچنا
بیعت کے عہد: شرک، چوری اور ناحق قتل سے بچنا
صحیح بخاری : ۶۸۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۷۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِنِّي مِنْ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَايَعْنَاهُ عَلَى : أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا نَسْرِقَ ، وَلَا نَزْنِيَ ، وَلَا نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ ، وَلَا نَنْتَهِبَ ، وَلَا نَعْصِيَ بِالْجَنَّةِ ، إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ " .
عبادہ بن صامت روایت:
میں ان نقیبوں میں سے تھا جنہوں نے (منیٰ میں لیلۃالعقبہ کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ ہم نے اس کی بیعت (عہد) کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، ہم چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، کسی کی ناحق جان نہیں لیں گے جو اللہ نے حرام کی ہے، ہم لوٹ مار نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے اور یہ کہ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی طرح کا گناہ کیا تو اس کا فیصلہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہاں ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع بیعت اور دینی عہد ہے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، اس جان کو ناحق قتل نہیں کریں گے جسے اللہ نے حرام کیا ہے، لوٹ مار نہیں کریں گے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ اگر ان باتوں پر عمل کیا تو جنت ملے گی، اور اگر ان میں سے کوئی گناہ ہو گیا تو اس کا فیصلہ اللہ کے پاس ہو گا۔ یہ حدیث مسلمان کی عملی زندگی کے بنیادی عہد کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیعت صرف الفاظ نہیں بلکہ عمل کا عہد ہے۔
- شرک، چوری، زنا، ناحق قتل اور لوٹ مار سے بچنا ضروری ہے۔
- گناہ کے آخری فیصلے کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔
