صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۲ - کلمہ پڑھنے والے کی جان کی حرمت

لا الہ الا اللہ کہنے والے کی جان کی حرمت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۷۲

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ ، قَالَ : فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ ، قَالَ : وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا غَشِينَاهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : فَكَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا ، بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : يَا أُسَامَةُ ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا ، قَالَ : أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " قَالَ : فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .

اسامہ بن زید بن حارثہ روایت:

ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ کی طرف (مہم پر) بھیجا۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے ان لوگوں کو صبح کے وقت جا لیا اور انہیں شکست دے دی۔ راوی نے بیان کیا کہ میں اور قبیلہ انصار کے ایک صاحب قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کہا «لا إله إلا الله» انصاری صحابی نے تو (یہ سنتے ہی) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنے نیزے سے اسے قتل کر دیا۔راوی نے بیان کیا کہ جب ہم واپس آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”اسامہ! کیا تم نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”تم نے اسے «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا۔“ بیان کیا کہ نبی کریم اس جملہ کو اتنی دفعہ دہراتے رہے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع کلمہ پڑھنے والے کی جان کی حرمت ہے۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مہم میں ایک شخص نے گھیرے جانے کے بعد لا الہ الا اللہ کہا۔ انصاری صحابی رک گئے، مگر اسامہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار پوچھا: کیا تم نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کر دیا؟ اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اس نے جان بچانے کے لیے کہا تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سوال کو دہرایا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہر ایمان کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے، اور جان کے بارے میں شک یا گمان پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لا الہ الا اللہ کہنے والے کے معاملے میں بہت احتیاط ضروری ہے۔
  • کسی کے دل کی نیت کا فیصلہ ظاہری گمان سے نہیں کیا جا سکتا۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جان کے معاملے میں جلد بازی پر سخت تنبیہ فرمائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں