صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۱ - سب سے بڑے گناہ
سب سے بڑے گناہ: شرک، قتل اور جھوٹی گواہی
صحیح بخاری : ۶۸۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۷۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْكَبَائِرُ " . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گناہ کبیرہ“ اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کی ناحق جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہیں یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع سب سے بڑے گناہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے گناہوں میں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، کسی کی ناحق جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا، اور جھوٹ بولنا یا جھوٹی گواہی دینا بیان فرمایا۔ یہ حدیث انسان کو چار بڑے خطرات سے خبردار کرتی ہے: عقیدے کی خرابی، جان پر ظلم، والدین کے حق میں کوتاہی، اور زبان سے جھوٹ۔ یہاں جھوٹی گواہی کا ذکر خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس سے کسی کا حق مارا جا سکتا ہے۔ حدیث کا پیغام صاف ہے کہ مسلمان کو اپنے ایمان، اپنے عمل، اپنے والدین کے حق، اور اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شرک سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔
- ناحق جان لینا بہت بڑا جرم ہے۔
- والدین کی نافرمانی سے بچنا ضروری ہے۔
- جھوٹ اور جھوٹی گواہی انسانوں کے حقوق کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
