صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۰ - کبیرہ گناہوں کی پہچان
کبیرہ گناہ: شرک، نافرمانی اور جھوٹی قسم
صحیح بخاری : ۶۸۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۷۰
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْكَبَائِرُ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، أَوْ قَالَ : الْيَمِينُ الْغَمُوسُ " شَكَّ شُعْبَةُ ، وَقَالَ مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : " الْكَبَائِرُ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، أَوْ قَالَ : وَقَتْلُ النَّفْسِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا یا فرمایا کہ ناحق دوسرے کا مال لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا ہیں۔“ شک شعبہ کو تھا اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کا مال ناحق لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا کہا کہ کسی کی جان لینا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع کبیرہ گناہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے گناہوں میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے، والدین کی نافرمانی کرنے، اور ناحق مال لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانے کا ذکر فرمایا۔ روایت میں شعبہ کو ایک جگہ شک ہے، اور دوسری سند میں قتل نفس کا ذکر بھی آیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان، خاندان، جان اور مال کے معاملات بہت نازک ہیں۔ شرک سب سے سنگین بات ہے، والدین کی نافرمانی بھی بڑا گناہ ہے، اور جھوٹی قسم کے ذریعے کسی کا مال لینا بھی سخت جرم ہے۔ اس حدیث کی زبان ہمیں سکھاتی ہے کہ بڑے گناہوں کو معمولی سمجھ کر زندگی نہیں گزارنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے ساتھ شرک کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
- والدین کی نافرمانی کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔
- جھوٹی قسم کے ذریعے کسی کا مال لینا بڑا گناہ ہے۔
- جان لینے کا معاملہ بھی بہت سنگین ہے۔
