صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۹ - حجۃ الوداع کی تنبیہ
حجۃ الوداع میں باہمی قتل سے سخت تنبیہ
صحیح بخاری : ۶۸۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۶۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا ، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " ، رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
جریر بن عبداللہ بجلی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن فرمایا ”لوگوں کو خاموش کرا دو, (پھر فرمایا) تم میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔“ اس حدیث کی روایت ابوبکر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع باہمی قتل سے بچنا ہے۔ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے لوگوں کو خاموش کرانے کا حکم دیا، پھر فرمایا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیغام بہت اہم تھا، اسی لیے اسے بڑے اجتماع میں سنایا گیا۔ حدیث میں مسلمانوں کے آپس کے خون کو ہلکا سمجھنے سے روکا گیا ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ دینی اجتماع، نصیحت اور اجتماعی ذمہ داری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اختلاف یا غصے کو خونریزی تک نہ لے جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بڑے اجتماع میں دی گئی نصیحت کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔
- مسلمانوں کا آپس میں قتل کرنا سخت منع ہے۔
- خونریزی سے بچانا دینی رہنمائی کا اہم حصہ ہے۔
