صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۸ - مسلمانوں کا آپس میں قتل نہ کرنا
مسلمانوں کا آپس میں قتل کرنا سخت منع ہے
صحیح بخاری : ۶۸۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۶۸
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا ، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگ جاؤ۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مسلمانوں کا باہمی قتل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں فرمایا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگ جاؤ۔ اس حدیث میں آپس کی لڑائی، خونریزی اور مسلمان کے خلاف تلوار اٹھانے پر سخت تنبیہ ہے۔ یہاں مقصد یہ سمجھانا ہے کہ مسلمان معاشرے میں ایک دوسرے کی جان کا احترام ہونا چاہیے۔ باہمی قتل و قتال ایمان کے تقاضوں کے خلاف عمل ہے۔ حدیث کے الفاظ بہت مختصر ہیں مگر پیغام نہایت واضح ہے: مسلمان کو دوسرے مسلمان کے خون سے بچنا چاہیے، اور امت کے اندر ایسی حالت پیدا نہیں کرنی چاہیے جس میں لوگ ایک دوسرے کی جان لینے لگیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کو مسلمان کے خون سے بچنا چاہیے۔
- آپس کی خونریزی بہت خطرناک دینی خرابی ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے امت کو باہمی قتل سے سختی کے ساتھ روکا۔
