صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۵ - اسلام کے اقرار کے بعد قتل نہیں

جان کی حرمت کی حدیث: اسلام کا اقرار کرنے والے کو قتل نہ کرو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۶۵

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ حَلِيفَ بَنِي زُهْرَةَ حَدَّثَهُ ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَقِيتُ كَافِرًا فَاقْتَتَلْنَا ، فَضَرَبَ يَدِي بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ ، وَقَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ، أَأَقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقْتُلْهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ طَرَحَ إِحْدَى يَدَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : ذَلِكَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا ، أَأَقْتُلُهُ ؟ قَالَ : لَا تَقْتُلْهُ ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ ، فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ " .

مقداد بن عمرو الکندی روایت:

´ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے، کہا مجھ سے عطاء بن یزید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عدی نے بیان کیا، ان سے بنی زہرہ کے حلیف مقداد بن عمرو الکندی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` وہ بدر کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہ آپ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر جنگ کے دوران میری کسی کافر سے مڈبھیڑ ہو جائے اور ہم ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش کرنے لگیں پھر وہ میرے ہاتھ پر اپنی تلوار مار کر اسے کاٹ دے اور اس کے بعد کسی درخت کی آڑ لے کر کہے کہ میں اللہ پر ایمان لایا تو کیا میں اسے اس کے اس اقرار کے بعد قتل کر سکتا ہوں؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے تو میرا ہاتھ بھی کاٹ ڈالا اور یہ اقرار اس وقت کیا جب اسے یقین ہو گیا کہ اب میں اسے قتل ہی کر دوں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے اسلام لانے کے بعد قتل کر دیا تو وہ تمہارے مرتبہ میں ہو گا جو تمہارا اسے قتل کرنے سے پہلے تھا یعنی معصوم معلوم الدم اور تم اس کے مرتبہ میں ہو گے جو اس کا اس کلمہ کے اقرار سے پہلے تھا جو اس نے اب کیا ہے (یعنی ظالم مباح الدم)۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ نے جنگ کی ایک سخت صورت پوچھی: اگر کوئی کافر لڑائی میں ہاتھ کاٹ دے، پھر درخت کی آڑ لے کر کہے کہ میں اللہ پر ایمان لایا، تو کیا اسے قتل کیا جا سکتا ہے؟ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بار بار فرمایا کہ اسے قتل نہ کرو۔ جب مقداد رضی اللہ عنہ نے اپنا نقصان بیان کیا تو بھی جواب یہی رہا۔ جان کی حرمت کی حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ اسلام کے اقرار کے بعد جان کا حکم بدل جاتا ہے۔ لڑائی، زخم اور غصہ بہت شدید ہوں، پھر بھی نبی صلى الله عليه وسلم نے قتل کی اجازت نہیں دی۔ اس روایت میں بدلے کے جذبے کے بجائے اقرار اسلام کے بعد خون کی حفاظت کو مقدم رکھا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اسلام کا اقرار کرنے کے بعد قتل سے روکا گیا۔
  • ذاتی نقصان اور شدید غصہ بھی حکم کو نہیں بدلتا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک ہی جواب بار بار دے کر بات کی سنجیدگی واضح کی۔
  • جنگ کے معاملے میں بھی جان کی حرمت کا لحاظ ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں