صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۲ - حرام خون سے بچنے کی تنبیہ

ناحق قتل کی حدیث: حرام خون دین کو تنگ کر دیتا ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۶۲

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يَزَالَ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ ، مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا " .

ابن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن اس وقت تک اپنے دین کے بارے میں برابر کشادہ رہتا ہے (اسے ہر وقت مغفرت کی امید رہتی ہے) جب تک ناحق خون نہ کرے جہاں ناحق کیا تو مغفرت کا دروازہ تنگ ہو جاتا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع ناحق قتل ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مومن اپنے دین کے بارے میں کشادگی میں رہتا ہے، جب تک وہ حرام خون نہ کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ناحق جان لینا معمولی گناہ نہیں بلکہ ایسا جرم ہے جو انسان کے دینی حال کو بہت سخت بنا دیتا ہے۔ ناحق قتل کی حدیث جان کی حرمت کو صاف الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ یہاں کسی لمبی تفصیل کے بجائے ایک مختصر مگر سخت تنبیہ دی گئی ہے: مسلمان جب تک کسی حرام خون میں ہاتھ نہیں ڈالتا، اس کے لیے امید اور دینی گنجائش باقی رہتی ہے؛ لیکن ناحق خون کا معاملہ بہت بھاری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مومن کے لیے ناحق خون سے بچنا بہت ضروری ہے۔
  • حرام جان لینا دین کے معاملے کو تنگ کر دیتا ہے۔
  • حدیث جان کی حرمت کو مختصر مگر سخت انداز میں بیان کرتی ہے۔
  • کسی جان کے معاملے کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں