صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۳ - حرام خون کا خطرہ

ناحق خون کی حدیث: ہلاکت کے بھنور سے بچنے کی تنبیہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۶۳

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الْأُمُورِ الَّتِي لَا مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ فِيهَا ، سَفْكَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

ہلاکت کا بھنور جس میں گرنے کے بعد پھر نکلنے کی امید نہیں ہے وہ ناحق خون کرنا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۳ کا خلاصہ

اس روایت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ناحق خون کو بہت خطرناک معاملہ قرار دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہلاکت کے ایسے بھنوروں میں سے، جن میں گرنے کے بعد نکلنے کی امید نہیں رہتی، ایک یہ ہے کہ انسان ناحق حرام خون بہائے۔ ناحق خون کی حدیث یا اثر ہمیں بتاتا ہے کہ جان کا معاملہ سب سے سنجیدہ معاملات میں ہے۔ یہاں الفاظ بہت سخت ہیں، مگر مقصد یہی ہے کہ انسان کسی کی جان لینے، خون بہانے یا ایسے کام میں شریک ہونے سے شدید احتیاط کرے۔ یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ حرام خون کا جرم صرف دنیاوی نقصان نہیں، بلکہ آخرت کی جواب دہی کے لحاظ سے بھی بہت بھاری معاملہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ناحق خون کو ہلاکت کے بھنوروں میں شمار کیا گیا۔
  • حرام جان لینا ایسا جرم ہے جس سے نکلنا بہت مشکل بتایا گیا۔
  • جان کے معاملے میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔
  • عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس جرم کی سنگینی واضح کی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں