صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۱ - اپنی رائے کو پرکھنے کی نصیحت
اپنی رائے کو غلط سمجھو کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۱۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۸۱
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ شَهِدْتَ صِفِّينَ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ ، يَقُولُ : " اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ غَيْرِ أَمْرِنَا هَذَا " .
اعمش روایت:
میں نے ابووائل سے پوچھا، کیا آپ صفین کی جنگ میں موجود تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں (میں تھا) اور میں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا تھا کہ تم لوگ خود اپنی رائے کو غلط سمجھو، جو آپس میں لڑتے مرتے ہو۔ میں نے اپنے تئیں دیکھا جس دن ابوجندل آیا (یعنی حدیبیہ کے دن) اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پھیر دیتا اور ہم نے جب کسی مصیبت میں ڈر کر تلواریں اپنے کندھوں پر رکھیں تو وہ مصیبت آسان ہو گئی۔ ہم کو اس کا انجام معلوم ہو گیا۔ مگر یہی ایک لڑائی ہے (جو سخت مشکل ہے اس کا انجام بہتر نہیں معلوم ہوتا)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اپنی رائے پر حد سے زیادہ بھروسا نہ کرنا ہے۔ ابو وائل کہتے ہیں کہ وہ صفین میں موجود تھے اور انہوں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ اپنی رائے کو غلط سمجھو۔ انہوں نے حدیبیہ کے دن ابو جندل رضی اللہ عنہ کے واقعے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بدل سکتے تو بدل دیتے۔ یعنی اس وقت بات دل پر سخت تھی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اصل تھا۔ پھر انہوں نے کہا کہ جب ہم نے کسی مشکل معاملے میں تلواریں کندھوں پر رکھیں تو وہ معاملہ ہمیں ایسی راہ تک لے گیا جسے ہم پہچانتے تھے، مگر موجودہ لڑائی کا انجام انہیں واضح نہیں لگتا۔ اس حدیث میں جذباتی رائے کے مقابلے میں نبوی حکم اور احتیاط کا سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل حالات میں اپنی رائے کو آخری سچ نہیں سمجھنا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے سامنے ذاتی رائے پیچھے رہتی ہے۔
- جنگ اور اختلاف کے معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔
- سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ کے تجربے سے نصیحت کی۔
