صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۲ - صلح حدیبیہ ہی فتح تھی

صلح حدیبیہ اور سورۃ الفتح والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۸۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو وَائِلٍ ، قَالَ : كُنَّا بِصِفِّينَ ، فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ فَإِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ؟ فَقَالَ : " بَلَى ، فَقَالَ : أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَعَلَي مَا نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا أَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهَا ، فَقَالَ : عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَفَتْحٌ هُوَ ، قَالَ : نَعَمْ " .

ابووائل روایت:

ہم مقام صفین میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ پھر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو! تم خود اپنی رائے کو غلط سمجھو۔ ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اگر ہمیں لڑنا ہوتا تو اس وقت ضرور لڑتے۔عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پر آئے (یعنی حدیبیہ میں) اور عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہیں! عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ کیوں نہیں! پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں کیوں دبیں؟ کیا ہم (مدینہ) واپس چلے جائیں گے، اور ہمارے اور ان کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی برباد نہیں کرے گا۔“اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے وہی سوالات کئے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابھی کر چکے تھے۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ انہیں کبھی برباد نہیں ہونے دے گا۔ پھر سورۃ فتح نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو اسے آخر تک پڑھ کر سنایا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا یہی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! بلا شک یہی فتح ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع صلح حدیبیہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتماد، اور بظاہر مشکل فیصلے کا انجام ہے۔ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے صفین میں لوگوں کو نصیحت کی کہ اپنی رائے کو پرکھو۔ پھر حدیبیہ کا واقعہ بیان کیا کہ اگر لڑائی مناسب ہوتی تو صحابہ لڑتے، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کا راستہ اختیار فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا ہم حق پر نہیں اور وہ باطل پر نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے صلح کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ یہی بات ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی کہی۔ پھر سورۃ الفتح نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی فتح ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر بظاہر مشکل فیصلہ ناکامی نہیں ہوتا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر اعتماد کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
  • ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کی تائید کی۔
  • صلح حدیبیہ کو حدیث میں فتح کے طور پر واضح کیا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں