صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۳ - صلہ رحمی اور غیر مسلم ماں سے حسن سلوک
صلہ رحمی کی حدیث: غیر مسلم ماں سے حسن سلوک
صحیح بخاری : ۳۱۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۸۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُدَّتِهِمْ مَعَ أَبِيهَا فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا ، قَالَ : " نَعَمْ صِلِيهَا " .
اسماء بنت ابی بکر روایت:
قریش سے جس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حدیبیہ کی) صلح کی تھی، اسی مدت میں میری والدہ (قتیلہ) اپنے باپ (حارث بن مدرک) کو ساتھ لے کر میرے پاس آئیں، وہ اسلام میں داخل نہیں ہوئی تھیں۔ (عروہ نے بیان کیا کہ) اسماء رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری والدہ آئی ہوئی ہیں اور مجھ سے رغبت کے ساتھ ملنا چاہتی ہیں، تو کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! ان کے ساتھ صلہ رحمی کر۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع صلہ رحمی ہے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی والدہ اسلام میں داخل نہیں ہوئی تھیں، پھر بھی وہ اپنی بیٹی سے ملنے آئیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے خود فیصلہ کرنے کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا: ہاں، ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ والدین سے حسن سلوک، رشتہ داری کا حق، اور خاندان کے ساتھ اچھا تعلق اسلام میں بڑی جگہ رکھتے ہیں۔ یہ حدیث خاص طور پر ان لوگوں کے لیے رہنمائی ہے جو غیر مسلم والدین یا رشتہ داروں کے ساتھ رویہ سمجھنا چاہتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ماں اگر مسلمان نہ بھی ہو تو اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جا سکتا ہے۔
- دینی معاملے میں سوال کر کے رہنمائی لینا بہتر طریقہ ہے۔
- صلہ رحمی رشتہ داری کو جوڑنے اور دلوں کو نرم رکھنے کا ذریعہ ہے۔
