صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۴ - صلح حدیبیہ اور وعدے کی پابندی

صلح حدیبیہ کی حدیث: معاہدہ پورا کرنے کا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۸۴

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَعْتَمِرَ أَرْسَلَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَسْتَأْذِنُهُمْ لِيَدْخُلَ مَكَّةَ فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهِ أَنْ لَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ ، وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ وَلَا يَدْعُوَ مِنْهُمْ أَحَدًا ، قَالَ : فَأَخَذَ يَكْتُبُ الشَّرْطَ بَيْنهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نَمْنَعْكَ وَلَبَايَعْنَاكَ وَلكِنِ اكْتُبْ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَنَا وَاللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَا وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : وَكَانَ لَا يَكْتُبُ ، قَالَ : فَقَالَ : لِعَلِيٍّ امْحَ رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : عَلِيٌّ وَاللَّهِ لَا أَمْحَاهُ أَبَدًا ، قَالَ : فَأَرِنِيهِ ، قَالَ : فَأَرَاهُ إِيَّاهُ فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَلَمَّا دَخَلَ وَمَضَى الْأَيَّامُ أَتَوْا عَلِيًّا ، فَقَالُوا : مُرْ صَاحِبَكَ فَلْيَرْتَحِلْ فَذَكَرَ ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ ارْتَحَلَ " .

براء بن عازب روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عمرہ کرنا چاہا تو آپ نے مکہ میں داخلہ کے لیے مکہ کے لوگوں سے اجازت لینے کے لیے آدمی بھیجا۔ انہوں نے اس شرط کے ساتھ (اجازت دی) کہ مکہ میں تین دن سے زیادہ قیام نہ کریں۔ ہتھیار نیام میں رکھے بغیر داخل نہ ہوں اور (مکہ کے) کسی آدمی کو اپنے ساتھ (مدینہ) نہ لے جائیں (اگرچہ وہ جانا چاہے) انہوں نے بیان کیا کہ پھر ان شرائط کو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے لکھنا شروع کیا اور اس طرح ”یہ محمد اللہ کے رسول کے صلح نامہ کی تحریر ہے۔“مکہ والوں نے کہا کہ اگر ہم جان لیتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کو روکتے ہی نہیں بلکہ آپ پر ایمان لاتے، اس لیے تمہیں یوں لکھنا چاہئے، ”یہ محمد بن عبداللہ کی صلح نامہ کی تحریر ہے“۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ گواہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ گواہ ہے کہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا نہیں جانتے تھے۔راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دے۔ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! یہ لفظ تو میں کبھی نہ مٹاؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر مجھے دکھلاؤ، راوی نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ لفظ دکھایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے اسے مٹا دیا۔پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے گئے اور (تین) دن گزر گئے تو قریش علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اب اپنے ساتھی سے کہو کہ اب یہاں سے چلے جائیں (علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) میں نے اس کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں، چنانچہ آپ وہاں سے روانہ ہو گئے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع صلح اور معاہدہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لیے مکہ جانا چاہتے تھے، مگر مکہ والوں نے داخلے کے لیے شرطیں رکھیں۔ ان شرطوں میں تین دن سے زیادہ نہ ٹھہرنا، ہتھیار نیام میں رکھنا، اور مکہ کے کسی آدمی کو ساتھ نہ لے جانا شامل تھا۔ صلح نامہ لکھتے وقت کفار نے “رسول اللہ” کے الفاظ پر اعتراض کیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت کا یقین رکھتے ہوئے معاملے کو آگے بڑھایا۔ جب تین دن پورے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے مکہ چھوڑ دیا۔ یہ حدیث صلح حدیبیہ، وعدہ پورا کرنے، اور اختلاف کے وقت تحمل کا صاف سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • معاہدہ ہو جائے تو اس کی شرطوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • بڑے مقصد کے لیے بعض اوقات نرم انداز اختیار کیا جاتا ہے۔
  • سچائی دل میں مضبوط ہو تو الفاظ کے جھگڑے سے معاملہ خراب نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں