صحیح بخاری حدیث ۳۱۹۰ - خوشخبری قبول کرنے کا ادب

خوشخبری قبول کرنے کی حدیث اور علم کی قدر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۹۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا بَنِي تَمِيمٍ أَبْشِرُوا ، قَالُوا : بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ فَجَاءَهُ أَهْلُ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ الْيَمَنِ اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ، قَالُوا : قَبِلْنَا فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ بَدْءَ الْخَلْقِ وَالْعَرْشِ فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " يَا عِمْرَانُ رَاحِلَتُكَ تَفَلَّتَتْ لَيْتَنِي لَمْ أَقُمْ " .

عمران بن حصین روایت:

بنی تمیم کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اے بنی تمیم کے لوگو! تمہیں بشارت ہو۔ وہ کہنے لگے کہ بشارت جب آپ نے ہم کو دی ہے تو اب ہمیں کچھ مال بھی دیجئیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، پھر آپ کی خدمت میں یمن کے لوگ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی فرمایا کہ اے یمن والو! بنو تمیم کے لوگوں نے تو خوشخبری کو قبول نہیں کیا، اب تم اسے قبول کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا۔پھر آپ مخلوق اور عرش الٰہی کی ابتداء کے بارے میں گفتگو فرمانے لگے۔ اتنے میں ایک (نامعلوم) شخص آیا اور کہا کہ عمران! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی۔ (عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) کاش، میں آپ کی مجلس سے نہ اٹھتا تو بہتر ہوتا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۱۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع بشارت اور علم کی قدر ہے۔ بنی تمیم کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو۔ انہوں نے خوشخبری سننے کے بعد مال مانگا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر یمن کے لوگ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی خوشخبری قبول کرنے کو فرمایا، اور انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق اور عرش کی ابتدا کے بارے میں بات کرنے لگے۔ حدیث کے آخر میں عمران رضی اللہ عنہ کا افسوس بھی ہے کہ وہ اپنی اونٹنی کی وجہ سے مجلس سے اٹھ گئے۔ یہ حدیث دینی بات سننے، خوشخبری قبول کرنے، اور علم کی مجلس کی قدر سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی خوشخبری کو صرف دنیاوی فائدے کے ترازو میں نہیں تولنا چاہیے۔
  • علم کی مجلس قیمتی ہوتی ہے، اسے معمولی وجہ سے چھوڑنا نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
  • اچھی بات قبول کرنے میں دل کی نرمی اور ادب ہونا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں