صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۸ - کائنات کی ابتدا کا بیان
کائنات کی ابتدا: اللہ تھا اور کوئی چیز نہ تھی
صحیح بخاری : ۷۴۱۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۱۸
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " إِنِّي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، فَقَالَ : اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ ، قَالُوا : بَشَّرْتَنَا ، فَأَعْطِنَا ، فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ، قَالُوا : قَبِلْنَا جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ مَا كَانَ ، قَالَ كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا عِمْرَانُ ، أَدْرِكْ نَاقَتَكَ فَقَدْ ذَهَبَتْ ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا ، فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا ، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ " .
عمران بن حصین روایت:
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ کے پاس بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے اس پر کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت دے دی، اب ہمیں بخشش بھی دیجئیے۔ پھر آپ کے پاس یمن کے کچھ لوگ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اہل یمن! بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی تم اسے قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کر لی۔ ہم آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور تاکہ آپ سے اس دنیا کی ابتداء کے متعلق پوچھیں کہ کس طرح تھی؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تھا اور کوئی چیز نہیں تھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ دی (عمران بیان کرتے ہیں کہ) مجھے ایک شخص نے آ کر خبر دی کہ عمران اپنی اونٹنی کی خبر لو وہ بھاگ گئی ہے۔ چنانچہ میں اس کی تلاش میں نکلا۔ میں نے دیکھا کہ میرے اور اس کے درمیان ریت کا چٹیل میدان حائل ہے اور اللہ کی قسم میری تمنا تھی کہ وہ چلی ہی گئی ہوتی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سے نہ اٹھا ہوتا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں بنو تمیم اور اہل یمن کا واقعہ آیا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بنو تمیم کو بشارت قبول کرنے کو کہا، مگر انہوں نے عطا کا سوال کیا۔ پھر اہل یمن آئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں بشارت قبول کرنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کیا، ہم دین کی سمجھ حاصل کرنے اور اس دنیا کی ابتدا کے بارے میں پوچھنے آئے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی، اس کا عرش پانی پر تھا، پھر اس نے آسمان و زمین پیدا کیے، اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ دی۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو اپنی اونٹنی کی خبر ملی تو وہ اٹھ گئے، بعد میں انہوں نے تمنا کی کہ کاش وہ مجلس نہ چھوڑتے۔ اس حدیث کا موضوع تخلیق، علم دین، اور اللہ کی ازلی ذات ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہل یمن نے بشارت قبول کی اور دین کی سمجھ مانگی۔
- حدیث میں آیا کہ اللہ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی۔
- آسمان و زمین کی تخلیق اور ہر چیز کے لکھے جانے کا ذکر ہے۔
- علم کی مجلس چھوڑنے پر عمران رضی اللہ عنہ کو افسوس ہوا۔
