صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۹ - اللہ کی عطا میں کمی نہیں
اللہ کی عطا: رات دن خرچ سے بھی کمی نہیں آتی
صحیح بخاری : ۷۴۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۱۹
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ؟ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مَا فِي يَمِينِهِ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْفَيْضُ ، أَوِ الْقَبْضُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اسے کوئی خرچ کم نہیں کرتا جو دن و رات وہ کرتا رہتا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب سے زمین و آسمان کو اس نے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کر دیا ہے۔ اس سارے خرچ نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جسے وہ اٹھاتا اور جھکاتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۹ کا خلاصہ
یہ حدیث اللہ کی بے کمی عطا اور کامل اختیار کے بارے میں ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن مسلسل خرچ کرنے سے بھی اس میں کمی نہیں آتی۔ پھر فرمایا کہ جب سے آسمان و زمین پیدا کیے گئے ہیں، اللہ نے کتنا خرچ کیا، مگر جو اس کے ہاتھ میں ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ حدیث میں عرش کے پانی پر ہونے کا بھی ذکر ہے، اور دوسرے ہاتھ میں قبض یا فیض کا بیان آیا ہے، جس سے وہ بلند کرتا اور پست کرتا ہے۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ رزق، عطا، کمی بیشی، بلند اور پست کرنا سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ بندے کو اللہ کی عطا کو محدود انسانی پیمانے سے نہیں ناپنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی عطا سے اس کے پاس موجود چیز میں کمی نہیں آتی۔
- آسمان و زمین کی تخلیق کے بعد بھی مسلسل عطا کا ذکر ہے۔
- عرش کے پانی پر ہونے کا بیان حدیث میں آیا ہے۔
- بلند اور پست کرنا اللہ کے اختیار میں ہے۔
