صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۷ - قرآن یاد ہونے کی قدر
قرآن یاد کرنے کی حدیث: کیا تمہیں کچھ قرآن آتا ہے؟
صحیح بخاری : ۷۴۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۱۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ : " أَمَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا " .
سہل بن سعد روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب سے پوچھا کیا آپ کو قرآن میں سے کچھ شے یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں فلاں فلاں سورتیں انہوں نے ان کے نام بتائے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۷ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے، مگر قرآن کی قدر کو صاف دکھاتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس قرآن میں سے کچھ ہے؟ یعنی کیا تمہیں قرآن کا کچھ حصہ یاد ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں، فلاں فلاں سورتیں، اور اس نے ان سورتوں کے نام بتائے۔ اس روایت میں کوئی لمبی نصیحت نہیں، مگر نبی صلى الله عليه وسلم کا سوال ہی بتاتا ہے کہ قرآن یاد ہونا ایک قابل ذکر دینی بات ہے۔ قرآن حفظ حدیث، قرآن یاد کرنے کی فضیلت، اور سورہ یاد ہونے کی حدیث جیسے الفاظ اس روایت کے لیے مناسب سرچ ٹرمز ہیں۔ اس حدیث سے اتنی بات واضح ہے کہ مسلمان کے پاس قرآن کا جو حصہ محفوظ ہو، وہ دینی اعتبار سے اہم ہے اور اسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کا کچھ حصہ یاد ہونا قابل قدر دینی نعمت ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے آدمی سے قرآن یاد ہونے کے بارے میں سوال فرمایا۔
- صحابی نے اپنی یاد سورتوں کے نام بتائے، یعنی یاد قرآن کو پہچانا گیا۔
- مختصر حدیث بھی قرآن کی اہمیت سمجھا سکتی ہے۔
