صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۶ - اللہ کی غیرت اور فواحش کی حرمت
اللہ کی غیرت اور کھلے چھپے فواحش سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۴۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۱۶
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ التَّبُوذَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : " لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ ؟ وَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ، وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ الْمُبَشِّرِينَ وَالْمُنْذِرِينَ ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ " ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْروِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، لَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللهِ .
مغیرہ روایت:
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھوں تو سیدھی تلوار سے اس کی گردن مار دوں پھر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں سعد کی غیرت پر حیرت ہے؟ بلاشبہ میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور اللہ نے غیرت ہی کی وجہ سے فواحش کو حرام کیا ہے۔ چاہے وہ ظاہر میں ہوں یا چھپ کر اور معذرت اللہ سے زیادہ کسی کو پسند نہیں، اسی لیے اس نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے اور تعریف اللہ سے زیادہ کسی کو پسند نہیں، اسی وجہ سے اس نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی غیرت کا ذکر آیا۔ ان کی بات رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تک پہنچی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کیا تم سعد کی غیرت پر حیران ہوتے ہو؟ میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں، اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ اللہ نے اپنی غیرت کی وجہ سے فواحش کو حرام کیا ہے، چاہے وہ ظاہر ہوں یا چھپے ہوئے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ اللہ کو عذر پسند ہے، اسی لیے اس نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجے۔ اور اللہ کو تعریف پسند ہے، اسی وجہ سے اس نے جنت کا وعدہ کیا۔ اس حدیث کا موضوع غیرت، فواحش سے بچنا، عذر، بشارت اور تنبیہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ نے ظاہر اور چھپے فواحش کو حرام کیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کی غیرت کو سب سے بڑھ کر بیان فرمایا۔
- اللہ نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے۔
- جنت کا وعدہ بھی حدیث میں اللہ کی تعریف کے پسندیدہ ہونے سے جوڑا گیا ہے۔
