صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۴ - بے حیائی سے بچنے اور اللہ کی حمد کا بیان
بے حیائی سے بچنے کی حدیث: اللہ کی غیرت اور حمد
صحیح بخاری : ۴۶۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۳۴
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ ، وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلَا شَيْءَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ ، وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ " ، قُلْتُ : سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَرَفَعَهُ ، قَالَ : نَعَمْ .
عبداللہ روایت:
اللہ سے زیادہ اور کوئی غیرت مند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے بےحیائیوں کو حرام قرار دیا ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور اللہ کو اپنی تعریف سے زیادہ اور کوئی چیز پسند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی خود مدح کی ہے۔ (عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ) میں نے پوچھا آپ نے یہ حدیث خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنی تھی انہوں نے بیان کیا کہ ہاں، میں نے پوچھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے حدیث بیان کی تھی؟ کہا کہ ہاں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۴ کا خلاصہ
یہ حدیث بے حیائی سے بچنے کی حدیث کے طور پر اہم ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان ہوا کہ اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں، اسی لیے اللہ نے بے حیائیوں کو حرام کیا، چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ پھر فرمایا گیا کہ اللہ کو اپنی تعریف سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں، اسی لیے اللہ نے اپنی خود تعریف فرمائی۔ اس حدیث میں دو باتیں ساتھ آئی ہیں: ایک، فواحش یعنی بے حیائی کے کاموں سے بچنا؛ دوسری، اللہ کی حمد اور تعریف کا مقام۔ ہمیں ظاہر گناہوں کے ساتھ چھپے گناہوں سے بھی بچنا چاہیے۔ پاکدامنی، حیا، اور اللہ کی حمد مسلمان کے کردار کا حصہ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ نے ظاہر اور پوشیدہ بے حیائی کو حرام کیا ہے۔
- مسلمان کو چھپے ہوئے گناہوں سے بھی بچنا چاہیے۔
- اللہ کی حمد و تعریف بہت عظیم عمل ہے۔
- حیا اور پاکدامنی دینی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔
