صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۳ - حرام چیز کو حیلے سے بیچنے کی ممانعت
حرام چیز بیچنے کی حدیث: حلال و حرام میں حیلہ نہیں
صحیح بخاری : ۴۶۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۳۳
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ عَطَاءٌ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، لَمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوهَا " ، وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، كَتَبَ إِلَيَّ عَطَاءٌ ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .s
جابر بن عبداللہ روایت:
´ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے کہ عطاء نے بیان کیا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ یہودیوں کو غارت کرے، جب اللہ تعالیٰ نے ان پر مردہ جانوروں کی چربی حرام کر دی تو اس کا تیل نکال کر اسے بیچنے اور کھانے لگے۔ اور ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا، انہیں عطاء نے لکھا تھا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۳ کا خلاصہ
یہ حدیث حلال و حرام کے معاملے میں ایک صاف اصول بتاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ یہودیوں کو غارت کرے، جب اللہ نے ان پر مردہ جانوروں کی چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا، پھر بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ نے حرام کیا ہو، اسے شکل بدل کر حلال سمجھنا درست نہیں۔ یہاں خاص طور پر مردار کی چربی، اسے پگھلا کر تیل بنانا، بیچنا اور اس سے فائدہ اٹھانا ذکر ہوا ہے۔ اس سے مسلمان کو سمجھنا چاہیے کہ حرام سے بچنے میں صرف لفظی پابندی نہیں، بلکہ نیت اور عمل دونوں کی درستگی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حرام چیز کو شکل بدل کر حلال بنانا درست نہیں۔
- اللہ کے حکم کے مقابلے میں حیلہ اختیار کرنا خطرناک عمل ہے۔
- بیع و تجارت میں حلال و حرام کا خیال رکھنا لازم ہے۔
- دین میں اصل حکم کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا چاہیے۔
