صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۵ - سورج کا مغرب سے طلوع ہونا

سورج مغرب سے طلوع ہونے کی حدیث: ایمان کا وقت ابھی ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۳۵

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَإِذَا رَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا ، فَذَاكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا ، لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی، جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو لے۔ جب لوگ اسے دیکھیں گے تو ایمان لائیں گے لیکن یہ وہ وقت ہو گا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کوئی نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ رکھتا ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۵ کا خلاصہ

یہ حدیث قیامت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔ جب لوگ اسے دیکھیں گے تو ایمان لائیں گے، لیکن وہ ایسا وقت ہوگا جب اس شخص کو ایمان فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا۔ اس حدیث کا پیغام بہت صاف ہے کہ ایمان کو آخری نشانی کے انتظار پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، قیامت کی نشانی، ایمان کا وقت، اور توبہ کی مہلت اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔ آدمی کو آج ہی اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ آخری وقت ہر شخص کے اختیار میں نہیں ہوتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورج کا مغرب سے طلوع ہونا قیامت کی بڑی نشانیوں میں ہے۔
  • آخری نشانی دیکھ کر لایا گیا ایمان فائدہ نہیں دے گا۔
  • ایمان اور توبہ میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
  • قیامت کی نشانیاں انسان کو غفلت سے جگاتی ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں