صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۶ - مغرب سے سورج نکلنے کے بعد ایمان
مغرب سے سورج طلوع ہونے کی حدیث: آخری نشانی سے پہلے ایمان
صحیح بخاری : ۴۶۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۳۶
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ ، آمَنُوا أَجْمَعُونَ ، وَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا " ، ثُمَّ قَرَأَ الْآيَةَ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک سورج مغرب سے نہ طلوع ہو لے۔ جب مغرب سے سورج طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لائیں گے لیکن یہ وقت ہو گا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔ جب سورج مغرب سے نکلے گا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو سب ایمان لائیں گے، لیکن یہ وہ وقت ہوگا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کی تلاوت فرمائی۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ایمان کو دیکھ لینے والی مجبوری کے وقت تک مؤخر کرنا درست نہیں۔ اصل کامیابی اس ایمان میں ہے جو غیب پر بھروسے، اللہ کی بات کو ماننے، اور وقت رہتے رجوع کرنے سے ہو۔ قیامت کی نشانیوں کا مقصد ڈرانا نہیں بلکہ جگانا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت سے پہلے سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔
- اس نشانی کے بعد نیا ایمان فائدہ نہیں دے گا۔
- آیت اور حدیث دونوں وقت پر ایمان لانے کی یاد دہانی کرتے ہیں۔
- انسان کو مہلت کے زمانے میں اللہ کی طرف پلٹنا چاہیے۔
