صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۷ - ظاہر و پوشیدہ بے حیائی کی حرمت
ظاہر اور پوشیدہ بے حیائی کی حدیث: اللہ کی حدود کا خیال
صحیح بخاری : ۴۶۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۳۷
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَرَفَعَهُ ، قَالَ : " لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ ، فَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ فَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ)` میں نے (ابووائل سے) پوچھا، کیا تم نے یہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے زیادہ اور کوئی غیرت مند نہیں ہے۔ اسی لیے اس نے بےحیائیوں کو حرام کیا خواہ ظاہر میں ہوں یا پوشیدہ اور اللہ سے زیادہ اپنی مدح کو پسند کرنے والا اور کوئی نہیں، اسی لیے اس نے اپنے نفس کی خود تعریف کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۷ کا خلاصہ
یہ حدیث 4634 کے مضمون کی دوسری روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں، اسی لیے اس نے فواحش کو حرام کیا، چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ اور اللہ سے زیادہ اپنی مدح کو پسند کرنے والا کوئی نہیں، اسی لیے اس نے اپنی تعریف خود فرمائی۔ اس حدیث میں بندے کو دو رخ دیے گئے ہیں: گناہ سے بچنا اور اللہ کی حمد کرنا۔ فواحش، بے حیائی، ظاہر گناہ، پوشیدہ گناہ، اللہ کی حمد اور اللہ کی غیرت اس روایت کے اہم موضوعات ہیں۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف لوگوں کے سامنے نہیں بلکہ تنہائی میں بھی اللہ کی حدود کا خیال رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظاہر اور چھپی ہوئی بے حیائی دونوں سے بچنا ضروری ہے۔
- اللہ کی حدود انسان کی پاکیزہ زندگی کے لیے ہیں۔
- اللہ کی حمد کرنا بندے کے لیے عزت کی بات ہے۔
- تنہائی میں بھی اللہ کے حکم کو یاد رکھنا چاہیے۔
