صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۸ - انبیاء میں فضیلت کے بیان میں ادب

مجھے انبیاء پر فضیلت نہ دو: موسیٰ علیہ السلام کے ذکر والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۳۸

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ ، وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ : إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنْ الْأَنْصَارِ لَطَمَ فِي وَجْهِي ، قَالَ : " ادْعُوهُ " ، فَدَعَوْهُ ، قَالَ : " لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ ، فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ ، فَقُلْتُ : وَعَلَى مُحَمَّدٍ ، وَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ ، فَلَطَمْتُهُ ، قَالَ : " لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأَنْبِيَاءِ ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ " ، الْمَنَّ وَالسَّلْوَى .

ابو سعید خدری روایت:

ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے منہ پر کسی نے طمانچہ مارا تھا۔ اس نے کہا: اے محمد! آپ کے انصاری صحابہ میں سے ایک شخص نے مجھے طمانچہ مارا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلاؤ۔ لوگوں نے انہیں بلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تم نے اسے طمانچہ کیوں مارا ہے؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں یہودیوں کی طرف سے گزرا تو میں نے سنا کہ یہ کہہ رہا تھا۔ اس ذات کی قسم! جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی۔ میں نے کہا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی۔ مجھے اس کی بات پر غصہ آ گیا اور میں نے اسے طمانچہ مار دیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ مجھے انبیاء پر فضیلت نہ دیا کرو۔ قیامت کے دن تمام لوگ بیہوش کر دیئے جائیں گے۔ سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا لیکن میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کا ایک پایہ پکڑے کھڑے ہوں گے اب مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا طور کی بے ہوشی کا انہیں بدلہ دیا گیا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۸ کا خلاصہ

یہ حدیث انبیاء کے ادب اور غصے میں حد سے بڑھ جانے کے بارے میں ہے۔ ایک یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہ ایک انصاری صحابی نے اسے طمانچہ مارا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ یہودی نے موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت کی قسم کھائی، تو صحابی کو غصہ آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملہ سنا اور فرمایا کہ مجھے انبیاء کے درمیان اس طرح فضیلت نہ دیا کرو۔ پھر قیامت کے دن لوگوں کے بے ہوش ہونے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے ہوش میں آنے، اور موسیٰ علیہ السلام کو عرش کا پایہ پکڑے ہوئے دیکھنے کا ذکر فرمایا۔ اس حدیث میں ادب، ضبط، انبیاء کی عزت، اور قیامت کا منظر سب موجود ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی غیرت میں بھی حد اور ادب ضروری ہے۔
  • انبیاء علیہم السلام کے بارے میں الفاظ محتاط ہونے چاہییں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑے میں انصاف کے ساتھ بات سنی۔
  • قیامت کے دن کے معاملات اللہ کے علم میں ہیں، انسان کو احتیاط کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں