صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۷ - انبیاء کی فضیلت میں ادب
انبیاء کے بارے میں ادب: موسیٰ علیہ السلام والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۱۷
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أنهما حدثاه أن أبا هريرة ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ ، قَالَ : فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَكُونُ فِي أَوَّلِ مَنْ يُفِيقُ ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مُوسَى فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ " .
ابوہریرہ روایت:
دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی۔ جن میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی تھا۔ مسلمان نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان پر برگزیدہ کیا۔ یہودی نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان پر برگزیدہ کیا۔ راوی نے بیان کیا کہ مسلمان یہودی کی بات سن کر خفا ہو گیا اور اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا۔ وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اور مسلمان کا سارا واقعہ بیان کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو موسیٰ علیہ السلام پر مجھ کو فضیلت مت دو کیونکہ قیامت کے دن ایسا ہو گا کہ صور پھونکتے ہی تمام لوگ بیہوش ہو جائیں گے اور میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جسے ہوش آئے گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا کونہ تھامے ہوئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کی موسیٰ علیہ السلام بھی ان لوگوں میں ہوں گے جو بیہوش ہوئے تھے اور پھر مجھ سے پہلے ہی ہوش میں آ گئے تھے یا ان میں سے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے مستثنیٰ کر دیا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع انبیاء کے بارے میں ادب اور قیامت کا ایک واقعہ ہے۔ ایک مسلمان اور یہودی میں بحث ہوئی۔ مسلمان نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کی قسم کھائی، یہودی نے موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت کی قسم کھائی۔ مسلمان غصے میں آیا اور اسے تھپڑ مارا۔ جب معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو۔ پھر آپ نے قیامت کا واقعہ بتایا کہ صور کے بعد لوگ بے ہوش ہوں گے، آپ سب سے پہلے ہوش میں آنے والوں میں ہوں گے، اور موسیٰ علیہ السلام عرش کا کنارہ تھامے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم وہ بے ہوش ہوئے تھے یا اللہ نے انہیں مستثنیٰ رکھا۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دینی محبت میں بھی ادب اور حد ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء علیہم السلام کے بارے میں بات کرتے وقت ادب ضروری ہے۔
- دینی اختلاف یا بحث میں غصہ اور ہاتھ اٹھانا درست طرز نہیں۔
- قیامت کے دن لوگوں پر بے ہوشی طاری ہو گی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نہایت ادب سکھایا۔
