صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۸ - قیامت کی بے ہوشی اور موسیٰ علیہ السلام
قیامت میں بے ہوشی: موسیٰ علیہ السلام عرش کے پاس
صحیح بخاری : ۶۵۱۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۱۸
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَصْعَقُ النَّاسُ حِينَ يَصْعَقُونَ ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ قَامَ ، فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِالْعَرْشِ ، فَمَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ " ، رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے ہوشی کے وقت تمام لوگ بیہوش ہو جائیں گے اور سب سے پہلے اٹھنے والا میں ہوں گا۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا کونہ تھامے ہوں گے۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ بیہوش بھی ہوں گے یا نہیں۔ اس حدیث کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۸ کا خلاصہ
یہ حدیث قیامت کے ایک غیبی واقعے کو مختصر الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے ہوشی کے وقت تمام لوگ بے ہوش ہو جائیں گے، اور سب سے پہلے اٹھنے والا آپ ہوں گے۔ اس وقت آپ موسیٰ علیہ السلام کو عرش الٰہی کا کنارہ تھامے ہوئے دیکھیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نہیں جانتے کہ موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہوئے تھے یا نہیں۔ اس حدیث میں قیامت کی ہیبت بھی ہے اور انبیاء کے مقام کا ادب بھی۔ ہمیں صرف وہی بات ماننی ہے جو حدیث میں آئی ہے، اور جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توقف فرمایا، وہاں ہمیں بھی اپنی طرف سے فیصلہ نہیں لگانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن ایک بے ہوشی کا مرحلہ آئے گا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اٹھنے والوں میں ہوں گے۔
- موسیٰ علیہ السلام کو عرش تھامے ہوئے دیکھا جائے گا۔
- غیبی باتوں میں حدیث کے الفاظ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
