صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۹ - اللہ ہی حقیقی بادشاہ ہے
میں بادشاہ ہوں: قیامت کے دن اللہ کی بادشاہی
صحیح بخاری : ۶۵۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۱۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ؟ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا کہ اب میں ہوں بادشاہ، آج زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کی عظمت اور قیامت کے دن اس کی حقیقی بادشاہی کا اعلان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟ حدیث کے الفاظ قیامت کی ہیبت اور دنیا کی حکومتوں کی حقیقت بتاتے ہیں۔ دنیا میں لوگ اقتدار، بادشاہی اور اختیار پر فخر کرتے ہیں، مگر قیامت کے دن سب ظاہر ہو جائے گا کہ حقیقی ملک اللہ ہی کا ہے۔ اس حدیث کو پڑھ کر انسان کو غرور، تکبر اور دنیاوی طاقت کے نشے سے بچنا چاہیے، اور اللہ کے سامنے اپنی بندگی کو پہچاننا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حقیقی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔
- دنیا کے بادشاہ اور حکمران قیامت کے دن بے اختیار ہوں گے۔
- حدیث اللہ کی عظمت اور قیامت کی ہیبت یاد دلاتی ہے۔
- اقتدار یا طاقت پر تکبر نہیں کرنا چاہیے۔
