صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۲ - قیامت کے دن بادشاہی صرف اللہ کی

أنا الملك: قیامت کے دن دنیا کے بادشاہ کہاں ہوں گے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۱۲

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ وَيَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ".

ابوسلمہ اور ابوہریرہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ قیامت کے دن اللہ ساری زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا۔ پھر فرمائے گا «أنا الملك، أين ملوك الأرض» ”آج حکومت صرف میری ہے، دنیا کے بادشاہ آج کہاں ہیں؟“

صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع قیامت اور اللہ کی بادشاہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ساری زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ اس حدیث میں انسان کی دنیاوی طاقت کو اس کے اصل مقام پر رکھا گیا ہے۔ دنیا میں بادشاہ، حکمران اور طاقت والے لوگ دکھائی دیتے ہیں، مگر قیامت کے دن سب پر واضح ہو جائے گا کہ حقیقی ملکیت اور حکم صرف اللہ کا ہے۔ یہ حدیث اللہ کی عظمت، آخرت کی یاد، اور دنیاوی اقتدار کی عارضی حیثیت کو بہت مختصر مگر گہرے انداز میں بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دنیا کی حکومت عارضی ہے، اصل بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔
  • قیامت کے دن زمین و آسمان اللہ کے حکم کے تابع ہوں گے۔
  • انسان کو طاقت ملے تو اسے اللہ کے سامنے جواب دہی یاد رکھنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں