صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۳ - آخری صور کے بعد موسیٰ علیہ السلام
آخری نفخہ کے بعد: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کا ذکر
صحیح بخاری : ۴۸۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۱۳
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنِّي أَوَّلُ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ بَعْدَ النَّفْخَةِ الْآخِرَةِ ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى مُتَعَلِّقٌ بِالْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي أَكَذَلِكَ كَانَ أَمْ بَعْدَ النَّفْخَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری مرتبہ صور پھونکے جانے کے بعد سب سے پہلے اپنا سر اٹھانے والا میں ہوں گا لیکن اس وقت میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ عرش کے ساتھ لپٹے ہوئے ہیں، اب مجھے نہیں معلوم کہ وہ پہلے ہی سے اسی طرح تھے یا دوسرے صور کے بعد (مجھ سے پہلے) اٹھ کر عرش الٰہی کو تھام لیں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع قیامت، آخری نفخہ اور انبیاء کا مقام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری صور پھونکے جانے کے بعد سب سے پہلے اپنا سر اٹھانے والا میں ہوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام کو عرش کے ساتھ لپٹا ہوا دیکھیں گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت واضح علمی احتیاط کے ساتھ فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام پہلے ہی سے اسی حال میں تھے یا دوسرے صور کے بعد مجھ سے پہلے اٹھ کر عرش کو تھام چکے تھے۔ یہ حدیث صرف قیامت کے ایک خاص منظر کو بیان کرتی ہے۔ اس میں قیامت کی حقیقت بھی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ بھی کہ جہاں بات معلوم نہ ہو، وہاں صاف فرمایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے واقعات میں وہی بات کہنی چاہیے جو حدیث میں آئی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نامعلوم بات میں احتیاط فرمائی۔
- موسیٰ علیہ السلام کا ذکر اس حدیث میں عرش کے ساتھ خاص منظر کے طور پر آیا ہے۔
