صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۰ - اہل جنت کی پہلی ضیافت

اہل جنت کی ضیافت: زمین ایک روٹی کی طرح

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۲۰

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ " ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَقَالَ : بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا ، ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ ، قَالَ : إِدَامُهُمْ بَالَامٌ وَنُونٌ ، قَالُوا : وَمَا هَذَا ؟ قَالَ : " ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا " .

ابو سعید خدری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم دستر خوان پر روٹی لہراتے پھراتے ہو۔ پھر ایک یہودی آیا اور بولا: ابوالقاسم! تم پر رحمن برکت نازل کرے کیا میں تمہیں قیامت کے دن اہل جنت کی سب سے پہلی ضیافت کے بارے میں خبر نہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیوں نہیں۔ تو اس نے (بھی یہی) کہا کہ ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا اور مسکرائے جس سے آپ کے آگے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ پھر (اس نے) خود ہی پوچھا کیا میں تمہیں اس کے سالن کے متعلق خبر نہ دوں؟ (پھر خود ہی) بولا کہ ان کا سالن «بالام ونون‏.‏» ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یہ کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ بیل اور مچھلی جس کی کلیجی کے ساتھ زائد چربی کے حصے کو ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع قیامت کے دن اہل جنت کی ضیافت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی، جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا، جیسے آدمی سفر میں روٹی کو الٹتا پلٹتا ہے۔ پھر ایک یہودی آیا اور اسی مضمون کی بات کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی طرف دیکھا اور مسکرائے۔ پھر سالن کا ذکر ہوا، جس میں بیل اور مچھلی کا بیان آیا، اور ان کی کلیجی کے زائد حصے سے ستر ہزار آدمیوں کے کھانے کا ذکر ہے۔ حدیث میں غیب کی وہ باتیں ہیں جنہیں ہم اسی حد تک مانتے ہیں جس حد تک الفاظ میں آئی ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن زمین کی حالت بدل دی جائے گی۔
  • حدیث میں اہل جنت کی ضیافت کا ذکر آیا ہے۔
  • غیبی امور کو حدیث کے الفاظ کے مطابق ماننا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خبر پر مسکراہٹ سے تصدیق کا انداز ظاہر فرمایا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں