صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۱ - حشر کی سفید زمین

حشر کی زمین: سفید، صاف اور بے نشان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۲۱

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ نَقِيٍّ " ، قَالَ سَهْلٌ أَوْ غَيْرُهُ : لَيْسَ فِيهَا مَعْلَمٌ لِأَحَدٍ .

سہل بن سعد الساعدی روایت:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن لوگوں کا حشر سفید و سرخی آمیز زمین پر ہو گا جیسے میدہ کی روٹی صاف و سفید ہوتی ہے۔ اس زمین پر کسی (چیز) کا کوئی نشان نہ ہو گا۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع حشر کی زمین ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کا حشر سفید سرخی مائل زمین پر ہو گا، جیسے میدہ کی صاف روٹی ہوتی ہے۔ پھر بیان کیا گیا کہ اس زمین پر کسی کا کوئی نشان نہیں ہو گا۔ حدیث قیامت کے میدان کی ایک واضح تصویر دیتی ہے، مگر اسی حد تک جس حد تک الفاظ میں آئی ہے۔ دنیا میں زمین پر راستے، نشان، عمارتیں اور پہچانیں ہوتی ہیں، مگر حشر کی زمین ایسی ہو گی جس پر کسی کا نشان نہیں ہو گا۔ یہ بات انسان کو یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی پہچانیں اور ملکیتیں عارضی ہیں، اصل کھڑا ہونا اللہ کے سامنے ہو گا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن حشر ایک نئی، صاف اور بے نشان زمین پر ہو گا۔
  • دنیا کی پہچانیں آخرت کے میدان میں کام نہیں آئیں گی۔
  • حدیث حشر کے دن کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔
  • آدمی کو اللہ کے سامنے پیشی کی تیاری کرنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں