صحیح مسلم حدیث ۲۷۸۷ - آخری عشرہ میں راتوں کی عبادت

آخری عشرہ کی عبادت: رات جاگنا اور گھر والوں کو جگانا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۸۷

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ ، أَحْيَا اللَّيْلَ ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ ، وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جہاں عشرہ اخیر رمضان آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات بھر جاگنا اور اپنے گھر والوں کو جگانا اور نہایت کوشش کرنا عبادت میں اور کمر ہمت باندھنا شروع کیا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۷۸۷ کا خلاصہ

یہ حدیث رمضان کے آخری عشرہ کی عبادت کے بارے میں بہت جامع بات بتاتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم رات کو زندہ رکھتے، اپنے گھر والوں کو جگاتے، عبادت میں خوب کوشش کرتے اور کمر ہمت باندھ لیتے۔ یہاں آخری عشرہ کی عبادت، قیام اللیل، اور گھر والوں کو عبادت کی طرف متوجہ کرنا تین نمایاں باتیں ہیں۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر شخص ایک ہی مقدار یا ایک ہی انداز اپنائے، بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دن عام دنوں سے زیادہ توجہ کے ہیں۔ رمضان آخری عشرہ عبادت کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت ایک مختصر مگر بھرپور رہنمائی ہے کہ گھر اور اپنی ذات دونوں کو عبادت کی طرف لگایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آخری عشرہ آتے ہی نبی صلى الله عليه وسلم عبادت میں زیادہ کوشش فرماتے تھے۔
  • آپ صلى الله عليه وسلم اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔
  • رات کو عبادت کے لیے زندہ رکھنا اس روایت میں واضح طور پر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں