صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۶ - مردوں کو برا نہ کہو
مردوں کو برا نہ کہو: زبان کی حفاظت والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۱۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ مر گئے ان کو برا نہ کہو کیونکہ جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا تھا اس کے پاس وہ خود پہنچ چکے ہیں، انہوں نے برے بھلے جو بھی عمل کئے تھے ویسا بدلہ پا لیا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع مرنے والوں کے بارے میں زبان کی حفاظت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ مر گئے، انہیں برا نہ کہو، کیونکہ وہ اس چیز تک پہنچ چکے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجی تھی۔ حدیث کے الفاظ بہت مختصر ہیں، مگر پیغام صاف ہے۔ مرنے والا اب اپنے اعمال کے نتیجے تک پہنچ چکا ہے۔ اسے برا بھلا کہنا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ اس سے بولنے والے کی زبان بھی خراب ہوتی ہے اور بات کا رخ غیر ضروری برائی کی طرف جاتا ہے۔ اس حدیث میں ہمیں یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ مرنے والوں کے بارے میں بلا فائدہ گالی یا برائی سے بچا جائے، اور اپنی زبان کو قابو میں رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مرنے والوں کو برا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔
- مرنے والے اپنے اعمال کے نتیجے تک پہنچ چکے ہیں۔
- بے فائدہ گالی یا بدزبانی سے بچنا چاہیے۔
- زبان کی حفاظت ایمان والے اخلاق کا حصہ ہے۔
