صحیح بخاری حدیث ۱۳۹۳ - مردوں کو برا نہ کہو
مردوں کو برا نہ کہو: زبان کی حفاظت کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۳۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۹۳
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَة ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا , قَالَتْ : قَالَ الّنَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا " ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، وَابْنُ عَرْعَرَةَ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پا لیا۔ اس روایت کی متابعت علی بن جعد ‘ محمد بن عرعرہ اور ابن ابی عدی نے شعبہ سے کی ہے۔ اور اس کی روایت عبداللہ بن عبدالقدوس نے اعمش سے اور محمد بن انس نے بھی اعمش سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۳۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع زبان کا ادب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مردوں کو برا نہ کہو، کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پا لیا۔ اس حدیث میں ایک بہت سادہ مگر اہم بات ہے: جو لوگ دنیا سے جا چکے، ان کے بارے میں زبان کو بے قابو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ تاریخ یا حق بات کبھی بیان نہ ہو، بلکہ یہاں مردوں کو گالی دینے اور برا کہنے سے روکا گیا ہے۔ اصل توجہ زبان کی حفاظت، مرنے والوں کے بارے میں ادب، اور اپنے کام کی فکر پر ہے۔ اسی لیے یہ حدیث لا تسبوا الاموات، مردوں کو گالی نہ دو، اور زبان کی حفاظت کی حدیث کے طور پر مشہور ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مردوں کو گالی دینے اور برا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔
- جو لوگ جا چکے، وہ اپنے اعمال کے انجام تک پہنچ چکے ہیں۔
- زبان کی حفاظت زندہ اور مردہ دونوں کے بارے میں ضروری ہے۔
- آدمی کو دوسروں کے بجائے اپنے عمل کی فکر کرنی چاہیے۔
