صحیح بخاری حدیث ۱۳۹۴ - ابولہب کا جواب اور سورہ لہب

ابولہب اور سورہ لہب: دعوت حق کے مقابلے کا انجام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۳۹۴

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " قَالَ أَبُو لَهَبٍ عَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ , فَنَزَلَتْ : تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ " .

ابن عباس روایت:

ابولہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ سارے دن تجھ پر بربادی ہو۔ اس پر یہ آیت اتری «تبت يدا أبي لهب وتب» یعنی ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے اور وہ خود ہی برباد ہو گیا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۳۹۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ابولہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ سارے دن تم پر بربادی ہو۔ اس پر آیت نازل ہوئی: تبت يدا أبي لهب وتب، یعنی ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ خود برباد ہو گیا۔ حدیث کا اصل موضوع دعوت حق کے مقابلے میں بدزبانی اور مخالفت ہے۔ یہاں خاص طور پر ابولہب کا واقعہ اور سورہ لہب کی آیت کا سبب بیان ہوا ہے۔ ہمیں اس متن سے یہی سمجھنا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مذاق اڑانا اور بددعا دینا بڑا سنگین معاملہ تھا۔ یہ حدیث سورہ لہب کی تفسیر، ابولہب کی حدیث، اور تبت یدا ابی لہب کے نام سے تلاش کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابولہب نے نبی صلى الله عليه وسلم کے جواب میں سخت اور برا کلام کہا۔
  • اس واقعے کے بعد سورہ لہب کی آیت نازل ہوئی۔
  • دعوت حق کے مقابلے میں بدزبانی سنگین رویہ ہے۔
  • حدیث میں ایک خاص واقعہ اور اس سے متعلق آیت کا ذکر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں