صحیح بخاری حدیث ۴۷۷۰ - قریبی رشتہ داروں کو دعوت
قریبی رشتہ داروں کو دعوت: صفا پہاڑی والی حدیث
صحیح بخاری : ۴۷۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۷۰
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا ، فَجَعَلَ يُنَادِي يَا بَنِي فِهْرٍ ، يَا بَنِي عَدِيٍّ ، لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتَّى اجْتَمَعُوا ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَخْرُجَ ، أَرْسَلَ رَسُولًا لِيَنْظُرَ مَا هُوَ ، فَجَاءَ أَبُو لَهَبٍ وَقُرَيْشٌ ، فَقَالَ : "أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا ، قَالَ : فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ ، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ : تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا ، فَنَزَلَتْ : تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ { 1 } مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ { 2 } سورة المسد آية 1-2 " .
ابن عباس روایت:
جب آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اور آپ اپنے خاندانی قرابت داروں کو ڈراتے رہئیے“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور پکارنے لگے۔ اے بنی فہر! اور اے بنی عدی! اور قریش کے دوسرے خاندان والو! اس آواز پر سب جمع ہو گئے اگر کوئی کسی وجہ سے نہ آ سکا تو اس نے اپنا کوئی چودھری بھیج دیا، تاکہ معلوم ہو کہ کیا بات ہے۔ ابولہب قریش کے دوسرے لوگوں کے ساتھ مجمع میں تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطاب کر کے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں تم سے کہوں کہ وادی میں (پہاڑی کے پیچھے) ایک لشکر ہے اور وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات سچ مانو گے؟ سب نے کہا کہ ہاں، ہم آپ کی تصدیق کریں گے ہم نے ہمیشہ آپ کو سچا ہی پایا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سنو، میں تمہیں اس سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو بالکل سامنے ہے۔ اس پر ابولہب بولا، تجھ پر سارے دن تباہی نازل ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا۔ اسی واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی «تبت يدا أبي لهب وتب * ما أغنى عنه ماله وما كسب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہو گیا، نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی ہی اس کے آڑے آئی۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۷۷۰ کا خلاصہ
اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھے اور قریش کے خاندانوں کو پکارا۔ لوگ جمع ہوئے، حتیٰ کہ جو خود نہ آ سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ان سے اپنی سچائی کی گواہی لی۔ سب نے کہا کہ ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا پایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سخت عذاب سے خبردار کیا۔ ابولہب نے برا جواب دیا، جس پر سورۃ المسد کی آیات نازل ہوئیں۔ اس حدیث میں دعوت اسلام، نبی صلى الله عليه وسلم کی سچائی، خاندان کو نصیحت، اور حق بات پہنچانے کا انداز سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوت کا آغاز اپنے قریبی لوگوں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی سچائی کو قریش بھی پہلے سے مانتے تھے۔
- حق بات پہنچاتے وقت واضح تنبیہ کی گئی، مگر بات متن کے اندر رہی۔
- ابولہب کے سخت ردعمل کے بعد سورۃ المسد کی آیات نازل ہوئیں۔
