صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۹ - جنت کافروں پر حرام ہے
جنت کافروں پر حرام ہے: ابراہیم علیہ السلام کے والد والی حدیث
صحیح بخاری : ۴۷۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۶۹
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَخِي ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ : إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد سے (قیامت کے دن) جب ملیں گے تو اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے رب! تو نے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے اس دن رسوا نہیں کرے گا جب سب اٹھائے جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ میں نے جنت کو کافروں پر حرام قرار دے دیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام اپنے والد سے ملیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے رب! تو نے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھے اس دن رسوا نہیں کرے گا جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے۔ یہ روایت نہایت واضح انداز میں ایمان اور کفر کے انجام کو بیان کرتی ہے۔ اس میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا، قیامت کا دن، اور اللہ کا فیصلہ تینوں باتیں آتی ہیں۔ شرح کرتے وقت یہ ضروری ہے کہ ہم متن سے آگے نہ بڑھیں۔ حدیث کا سیدھا پیغام یہ ہے کہ آخرت میں نجات کا معاملہ صرف رشتہ داری یا نسبت سے نہیں، بلکہ اللہ کے فیصلے اور ایمان سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سب پر غالب ہوگا۔
- ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کے وعدے کا ذکر کیا۔
- حدیث میں صاف آیا ہے کہ اللہ نے جنت کو کافروں پر حرام کیا ہے۔
- رشتہ داری آخرت کے فیصلے کو بدلنے کا مستقل ذریعہ نہیں بنتی۔
