صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۸ - ابراہیم علیہ السلام کے والد کا حال
ابراہیم علیہ السلام کے والد کی حدیث: قیامت کے دن کا ایک منظر
صحیح بخاری : ۴۷۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۶۸
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ : عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَرَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ ، وَالْقَتَرَةُ الْغَبَرَةُ هِيَ الْقَتَرَةُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد (آذر) کو قیامت کے دن گرد آلود کالا کلوٹا دیکھیں گے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا «غبرة» اور «قترة.» ہم معنی ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۶۸ کا خلاصہ
اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن کا ایک خاص واقعہ بیان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کو قیامت کے دن گرد آلود اور سیاہ حال میں دیکھیں گے۔ متن میں امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ بھی بتایا کہ غبرہ اور قترہ کا معنی ایک دوسرے کے قریب ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع قیامت کا حال اور کفر کا انجام ہے۔ یہاں ہمیں صرف وہی بات کہنی چاہیے جو روایت میں آئی ہے: ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کو اس حال میں دیکھیں گے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نسبت، خاندان یا محبت اپنی جگہ، مگر آخرت میں فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق ہوگا۔ یہ حدیث قیامت، ابراہیم علیہ السلام کے والد، اور کفر کے انجام کے موضوع پر اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن ہر شخص کا حال اللہ کے فیصلے کے مطابق ظاہر ہوگا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ابراہیم علیہ السلام کے والد کا ایک خاص حال بیان فرمایا۔
- روایت میں غبرہ اور قترہ کو قریب المعنی بتایا گیا ہے۔
- آخرت کے معاملے میں اصل وزن ایمان اور اللہ کے حکم کا ہے۔
