صحیح بخاری حدیث ۴۷۷۱ - نجات نسب سے نہیں عمل سے ہے
نجات نسب سے نہیں: اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے بچاؤ
صحیح بخاری : ۴۷۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۷۱
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَالَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، وَيَا فَاطِمَةُ ، بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " . تَابَعَهُ أَصْبَغُ ،عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ .
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، جب آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اور اپنے خاندان کے قرابت داروں کو ڈرا“ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر) آواز دی کہ اے جماعت قریش! یا اسی طرح کا اور کوئی کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی اطاعت کے ذریعہ اپنی جانوں کو اس کے عذاب سے بچاؤ (اگر تم شرک و کفر سے باز نہ آئے تو) اللہ کے ہاں میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔اے بنی عبد مناف! اللہ کے ہاں میں تمہارے لیے بالکل کچھ نہیں کر سکوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کی بارگاہ میں میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکوں گا۔ اے صفیہ، رسول اللہ کی پھوپھی! میں اللہ کے یہاں تمہیں کچھ فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔ اے فاطمہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے لے لو لیکن اللہ کی بارگاہ میں، میں تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔اس روایت کی متابعت اصبغ نے ابن وہب سے، انہوں نے یونس سے اور انہوں نے ابن شہاب سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت نازل ہونے کے بعد قریش اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو مخاطب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی جانوں کو اللہ کے عذاب سے بچاؤ۔ پھر بنی عبد مناف، عباس رضی اللہ عنہ، صفیہ رضی اللہ عنہا، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو الگ الگ مخاطب فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا کہ اللہ کے ہاں میں تمہارے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو، لیکن اللہ کے ہاں میں تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکوں گا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ دینی ذمہ داری ہر شخص کی اپنی ہے۔ خاندان، قربت اور نسب عزت کی بات ہو سکتے ہیں، مگر نجات کے لیے اللہ کی اطاعت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر شخص کو اپنی جان کو اللہ کے عذاب سے بچانے کی فکر کرنی چاہیے۔
- قریبی رشتہ بھی اللہ کے فیصلے سے بے نیاز نہیں کر سکتا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے اہل خانہ کو بھی واضح نصیحت فرمائی۔
- مالی مدد اور آخرت میں نجات دو الگ معاملے ہیں۔
