صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۵ - قبر میں ٹھکانا دکھایا جاتا ہے

قبر میں جنت یا دوزخ کا ٹھکانا دکھایا جانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۱۵

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ غُدْوَةً وَعَشِيًّا ، إِمَّا النَّارُ ، وَإِمَّا الْجَنَّةُ ، فَيُقَالُ : هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ إِلَيْهِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو صبح و شام (جب تک وہ برزخ میں ہے) اس کے رہنے کی جگہ اسے ہر روز دکھائی جاتی ہے یا دوزخ ہو یا جنت اور کہا جاتا ہے کہ یہ تیرے رہنے کی جگہ ہے یہاں تک کہ تو اٹھایا جائے (یعنی قیامت کے دن تک)۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع برزخ اور مرنے کے بعد ٹھکانے کا دکھایا جانا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو صبح و شام اسے اس کا رہنے کا مقام دکھایا جاتا ہے، چاہے وہ دوزخ ہو یا جنت۔ پھر کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا مقام ہے، یہاں تک کہ تو قیامت کے دن اٹھایا جائے۔ حدیث میں صاف بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد انسان کا معاملہ ختم نہیں ہو جاتا۔ ایک برزخی مرحلہ ہے، جس میں اسے اس کے انجام کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔ یہ بات آدمی کو اپنے ایمان اور عمل کی طرف متوجہ کرتی ہے، کیونکہ آخرت کا ٹھکانا دنیا کی زندگی کے بعد سامنے آئے گا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • موت کے بعد انسان کو اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے۔
  • یہ ٹھکانا جنت یا دوزخ میں سے ہو سکتا ہے۔
  • یہ دکھایا جانا قیامت تک جاری رہتا ہے۔
  • حدیث برزخ اور آخرت کی تیاری یاد دلاتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں