صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۴ - میت کے ساتھ عمل باقی رہتا ہے

میت کے ساتھ کیا جاتا ہے؟ عمل ہی ساتھ رہتا ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۱۴

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ ، وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ : يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ ، وَمَالُهُ ، وَعَمَلُهُ ، فَيَرْجِعُ : أَهْلُهُ وَمَالُهُ ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میت کے ساتھ تین چیزیں چلتی ہیں دو تو واپس آ جاتی ہیں صرف ایک کام اس کے ساتھ رہ جاتا ہے، اس کے ساتھ اس کے گھر والے اس کا مال اور اس کا عمل چلتا ہے اس کے گھر والے اور مال تو واپس آ جاتا ہے اور اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع عمل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کے ساتھ تین چیزیں چلتی ہیں: اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کا عمل۔ پھر دو چیزیں واپس آ جاتی ہیں، یعنی گھر والے اور مال، اور ایک چیز اس کے ساتھ رہ جاتی ہے، یعنی اس کا عمل۔ یہ حدیث بہت سادہ انداز میں دنیا کی حقیقت سمجھاتی ہے۔ انسان زندگی بھر خاندان، مال اور کاموں میں لگا رہتا ہے، مگر قبر کے بعد جو چیز ساتھ رہتی ہے وہ عمل ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ گھر والے یا مال بے فائدہ ہیں، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ آخری ساتھی عمل ہے۔ اس لیے آدمی کو اپنے اعمال کی فکر کرنی چاہیے، کیونکہ وہی اس کے ساتھ آگے جائیں گے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • میت کے ساتھ آخر میں صرف عمل باقی رہتا ہے۔
  • گھر والے اور مال قبر تک ساتھ آ سکتے ہیں، پھر واپس لوٹ جاتے ہیں۔
  • عمل کی اہمیت موت کے بعد زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔
  • دنیا کی چیزوں کو آخرت کی تیاری سے غافل نہیں کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں