صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۳ - مرنے والا آرام پاتا یا آرام دیتا ہے
مرنے والا مستریح یا مستراح منہ: مختصر حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۱۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ " .
ابوقتادہ روایت:
´مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبدربہ بن سعید نے، ان سے محمد بن عمر نے بیان کیا، ان سے طلحہ بن کعب نے بیان کیا، ان سے ابوقتادہ نے` اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مرنے والا یا تو آرام پانے والا ہے یا دوسرے بندوں کو آرام دینے والا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۳ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلے مضمون کو بہت مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرنے والا یا تو آرام پانے والا ہے یا دوسروں کو آرام دینے والا ہے۔ حدیث کے الفاظ انسان کو اپنے انجام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر آدمی ایمان اور اچھے عمل کے ساتھ زندگی گزارے تو موت اس کے لیے دنیا کی تھکن سے نکل کر اللہ کی رحمت کی طرف جانے کا سبب بنتی ہے۔ اور اگر انسان کا کردار ایسا ہو کہ اس سے لوگ، بستیاں، درخت اور جانور تک تنگ ہوں، تو اس کے جانے سے مخلوق کو راحت ملتی ہے، جیسا کہ اسی مضمون کی دوسری روایت میں وضاحت آتی ہے۔ اس حدیث کا سادہ پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں ایسا بنے کہ اس کی موجودگی خیر کا سبب ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مرنے والے کے انجام کی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں۔
- مومن کے لیے موت دنیا کی تکلیف سے آرام کا سبب بن سکتی ہے۔
- برا کردار مخلوق کے لیے تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔
- حدیث آدمی کو اپنی زندگی کے اثرات پر غور کراتی ہے۔
