صحیح بخاری حدیث ۳۱۹۲ - ابتدا سے آخرت تک خبر
بدء الخلق کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کا جامع وعظ
صحیح بخاری : ۳۱۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۹۲
وَرَوَى عِيسَى ، عَنْ رَقَبَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْءِ الْخَلْقِ حَتَّى دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنَازِلَهُمْ ، وَأَهْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ ، حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَهُ ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ " .
عمر بن خطاب روایت:
ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر ہمیں وعظ فرمایا اور ابتدائے خلق کے بارے میں ہمیں خبر دی۔ یہاں تک کہ جب جنت والے اپنی منزلوں میں داخل ہو جائیں گے اور جہنم والے اپنے ٹھکانوں کو پہنچ جائیں گے (وہاں تک ساری تفصیل کو آپ نے بیان فرمایا) جسے اس حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بدء الخلق اور آخرت کی خبر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو وعظ فرمایا۔ اس وعظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا خلق کے بارے میں خبر دی، یہاں تک کہ جنت والے اپنی منزلوں میں داخل ہوں گے اور جہنم والے اپنے ٹھکانوں تک پہنچیں گے، اتنی باتیں بیان فرمائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ جس نے یاد رکھنا تھا، اس نے یاد رکھا، اور جسے بھولنا تھا، وہ بھول گیا۔ یہ حدیث علم نبوی، وعظ کی مجلس، یاد رکھنے کی کوشش، اور آخرت کی تیاری کی یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی علم کو توجہ سے سننا اور یاد رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
- آغاز خلق اور آخرت کی خبر وحی کے علم سے معلوم ہوتی ہے۔
- وعظ صرف سننے کی چیز نہیں، اسے دل میں جگہ دینا بھی ضروری ہے۔
