صحیح بخاری حدیث ۳۱۹۶ - ناحق زمین لینے کی سزا
ناحق زمین لینے کی حدیث اور قیامت کی سخت پکڑ
صحیح بخاری : ۳۱۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۹۶
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ " .
´ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی کی زمین میں سے کچھ ناحق لے لیا تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۱۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع زمین کا حق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی کی زمین میں سے کچھ ناحق لے لیا، قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر بات بہت سخت ہے۔ زمین کا تھوڑا سا حصہ، حد بندی میں زیادتی، دوسرے کی ملکیت دبانا، یا اپنے حق سے زیادہ لینا سب ظلم کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ملکیت کے حق کا احترام کرتا ہے۔ کسی کی زمین لینا صرف دنیاوی مقدمہ نہیں، آخرت کی جواب دہی بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کی زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی ناحق نہیں لینا چاہیے۔
- ملکیت اور حدود کے معاملات میں دیانت ضروری ہے۔
- دنیا کا فائدہ آخرت کی سخت پکڑ کا سبب بن سکتا ہے۔
