صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۲ - گرہن کے وقت اللہ کا ذکر
گرہن کے وقت ذکر اللہ کی حدیث: توہم نہیں، اللہ کی یاد
صحیح بخاری : ۳۲۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۰۲
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت و حیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا۔ اس لیے جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کی یاد میں لگ جایا کرو۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع گرہن کے وقت ذکر اللہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ کسی کی موت یا زندگی سے ان میں گرہن نہیں لگتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم ایسا دیکھو تو اللہ کی یاد میں لگ جاؤ۔ یہ حدیث بہت سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ گرہن کو ڈر، افواہ، یا لوگوں کی قسمت سے جوڑنے کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کا موقع سمجھنا چاہیے۔ سورج گرہن اور چاند گرہن اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں، اور ان کے وقت ذکر، نماز، اور اللہ کی یاد مناسب عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گرہن کو کسی شخص کی موت یا زندگی کا اثر نہیں سمجھنا چاہیے۔
- اللہ کی نشانی دیکھ کر اللہ کو یاد کرنا چاہیے۔
- توہمات کے بجائے نبی صلى الله عليه وسلم کی بتائی ہوئی رہنمائی پر عمل کرنا چاہیے۔
