صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۱ - سورج چاند گرہن اور نماز
گرہن کی نماز کی حدیث: سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں
صحیح بخاری : ۳۲۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۰۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
´ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ قاسم بن محمد بن ابی بکر نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا` وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند میں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ اس لیے جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع گرہن کی نماز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند میں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو۔ اس حدیث میں ایک غلط خیال کی اصلاح کی گئی ہے کہ گرہن کسی انسان کی موت یا پیدائش کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے توجہ اللہ کی طرف موڑ دی۔ اس لیے سورج گرہن یا چاند گرہن دیکھ کر توہمات کے بجائے نماز، خشوع، اور اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گرہن کو کسی انسان کی موت یا زندگی سے جوڑنا درست نہیں۔
- سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
- گرہن دیکھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
