صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۰ - قیامت کے دن سورج اور چاند
قیامت کے دن سورج اور چاند بے نور ہونے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۲۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۰۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ لنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُكَوَّرَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن سورج اور چاند دونوں تاریک (بے نور) ہو جائیں گے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قیامت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سورج اور چاند دونوں تاریک، یعنی بے نور ہو جائیں گے۔ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس میں آخرت کے دن کی ایک بڑی خبر ہے۔ آج سورج اور چاند روشنی، وقت، دن رات، اور زندگی کے معمولات سے جڑے ہوئے ہیں، مگر قیامت کے دن ان کی حالت بدل جائے گی۔ اس حدیث سے بندے کو یاد آتا ہے کہ دنیا کا نظام ہمیشہ اسی طرح نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا، کائنات کا موجودہ طریقہ ختم ہو جائے گا۔ اس لیے قیامت، حساب، اور آخرت کو یاد رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا کا موجودہ نظام ہمیشہ باقی نہیں رہے گا۔
- سورج اور چاند بھی اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔
- قیامت کی خبر انسان کو آخرت کی تیاری یاد دلاتی ہے۔
