صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۰ - کاہنوں کے جھوٹ اور شیاطین کی چوری
کاہنوں کی باتوں کی حقیقت: ایک سنی بات کے ساتھ سو جھوٹ
صحیح بخاری : ۳۲۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۱۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ وَهُوَ السَّحَابُ فَتَذْكُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ ، فَتَسْمَعُهُ فَتُوحِيهِ إِلَى الْكُهَّانِ فَيَكْذِبُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ " .
عائشہ روایت:
´ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں لیث نے خبر دی، ان سے ابن ابی جعفر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”فرشتے «عنان» میں اترتے ہیں۔ اور «عنان» سے مراد بادل ہیں۔ یہاں فرشتے ان کاموں کا ذکر کرتے ہیں جن کا فیصلہ آسمان میں ہو چکا ہوتا ہے۔ اور یہیں سے شیاطین کچھ چوری چھپے باتیں اڑا لیتے ہیں۔ پھر کاہنوں کو اس کی خبر کر دیتے ہیں اور یہ کاہن سو جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اسے بیان کرتے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع کاہنوں کے جھوٹ اور شیاطین کی چوری چھپے سننے کی کوشش ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے عنان یعنی بادلوں میں اترتے ہیں اور آسمان میں طے شدہ امور کا ذکر کرتے ہیں۔ شیاطین کچھ بات چوری چھپے سن لیتے ہیں، پھر کاہنوں کو بتاتے ہیں۔ کاہن اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کاہنوں کی بات پر اعتماد کرنا درست نہیں، کیونکہ ان کی باتوں میں جھوٹ شامل ہوتا ہے۔ حدیث ہمیں صاف سوچ دیتی ہے کہ غیب کا علم اللہ کے پاس ہے، اور دھوکے والی باتوں سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کاہنوں کی باتوں میں جھوٹ شامل ہوتا ہے۔
- شیاطین چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں۔
- آسمانی فیصلے اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں۔
- مسلمان کو کاہنوں اور غیب دانی کے دعووں سے بچنا چاہیے۔
