صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۹ - اللہ کی محبت اور زمین میں قبولیت
اللہ کی محبت کی حدیث: بندے کے لیے آسمان سے زمین تک قبولیت
صحیح بخاری : ۳۲۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۰۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَابَعَهُ أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ " .
ابوہریرہ روایت:
´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہوں نے بیان کیا کہ` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور اس روایت کی متابعت ابوعاصم نے ابن جریج سے کی ہے کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی انہیں نافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے۔ تم بھی اس سے محبت رکھو، چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔پھر جبرائیل علیہ السلام تمام اہل آسمان کو پکار دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت رکھتا ہے۔ اس لیے تم سب لوگ اس سے محبت رکھو، چنانچہ تمام آسمان والے اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد روئے زمین والے بھی اس کو مقبول سمجھتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں اللہ کی محبت اور بندے کی قبولیت کا بیان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بتاتا ہے کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرتے ہیں اور اہلِ آسمان میں اعلان کرتے ہیں۔ اس کے بعد آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ ہر مقبول شخص لازماً ایسا ہی ہے، بلکہ یہ اللہ کی خاص محبت کے اثر کو بیان کرتی ہے۔ اصل توجہ اللہ کی محبت، فرشتوں کی اطاعت اور بندے کی عزت پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی محبت بندے کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔
- جبرائیل علیہ السلام اللہ کے حکم پر محبت کرتے ہیں۔
- اہلِ آسمان بھی اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔
- زمین میں قبولیت اللہ کی طرف سے رکھی جاتی ہے۔
