صحیح بخاری حدیث ۶۰۴۱ - ایمان کی حلاوت
ایمان کی حلاوت کی حدیث: محبت صرف اللہ کے لیے
صحیح بخاری : ۶۰۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۴۱
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجِدُ أَحَدٌ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَحَتَّى أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ ، وَحَتَّى يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص ایمان کی حلاوت (مٹھاس) اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک وہ کسی شخص سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے کرے اور اس کو آگ میں ڈالا جانا اچھا لگے لیکن ایمان کے بعد کفر میں جانا اسے پسند نہ ہو، اور جب تک اللہ اور اس کے رسول سے اسے ان کے سوا دوسری تمام چیزوں کے مقابلے میں زیادہ محبت نہ ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ایمان کی حلاوت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتیں بیان فرمائیں: آدمی کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے کرے، ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اسے آگ میں ڈالے جانے سے بھی زیادہ ناپسند ہو، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔ ایمان کی حلاوت کی حدیث محبت کے معیار کو صاف کرتی ہے۔ یہاں محبت صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ دل کی ترجیح کا نام ہے۔ آدمی کی دوستی، نفرت، پسند اور ناپسند اللہ کے دین سے جڑ جائے تو ایمان کا ذائقہ بدلتا ہے۔ حدیث میں جو شرائط بیان ہوئیں، انہی کو اصل پیغام بنانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی سے محبت اللہ کے لیے کرنا ایمان کی حلاوت سے جڑا ہے۔
- ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹنا سخت ناپسند ہونا چاہیے۔
- اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی محبت ہر چیز سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔
